ابنا: گارڈین نے اپنی کل کی اشاعت میں ایران سے متعلق ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوۓ مزید لکھا ہے کہ یوکیا آمانو غیر مصدقہ اطلاعات پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ امریکہ کے ایک ماہر اسلحہ جات رابرٹ کلے نے کہ جو عراق پر امریکہ کے حملے کے دوران ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے وفد کے سربراہ بھی تھے ، گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوۓ کہا ہے کہ عراق سے متعلق یورپ کی غلطیوں اور ایران سے متعلق ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے اقدامات کے درمیان تشویشناک مشابہت پائی جاتی ہے۔ رابرٹ کلے نے مزید کہا ہے کہ یوکیا آمانو ایک دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔
وہ بھی امریکہ کے سابق نائب صدر ڈیک چینی کی طرح بہت کم افراد پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کے افکار و نظریات کا جانچ پڑتال بھی نہیں کرتے ہیں۔ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ہانس بلیکس نے بھی گارڈین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوۓ اس بات پر زور دیا ہے کہ اطلاعات اور مصدقہ دستاویزات کے درمیان بہت سے فرق پاۓ جاتے ہیں۔ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو غیر مصدقہ اطلاعات پر مہر تصدیق ثبت نہیں کرنی چاہۓ۔ واضح رہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں جاپان کے سینئر سفارتکار یوکیا آمانو محمد البرادعی کے بعد سنہ دو ہزار نو میں اس ایجنسی کے سربراہ بنے تھے۔ بہت سے سیاسی مبصرین یوکیا آمانو کی کارکردگی کو اس ایجنسی میں امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں یوکیا آمانو کی رپورٹیں الزامات کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے یوکیا آمانو ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے سربراہ بنے ہیں تب سے ان کی کارکردگي کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین اور سفارتکاری کے میدان میں سرگرم افراد یوکیا آمانو کی کارکردگی کے سیاسی رنگ اختیار کرنے اور ان کی کارکردگی کے منفی نتائج کے بارے میں خبردار کررہے ہیں تو اسے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ کی کمزوری کی علامت جاننا چاہۓ۔
البتہ یہ بات مسلم ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے حقوق کے دفاع کے لۓ ہر طرح کے دباؤ کا مقابلہ کرتا رہے گا۔ اور ہر طرح کی دھمکی اور حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔ ہرچند یہ بات واضح ہے کہ بے بنیاد رپورٹوں ، سیاسی لفاظی ، اقتصادی بائیکاٹ اور فوجی دھمکیوں کا مقصد ملت ایران کو مرعوب اور ناامید کرنا ہے لیکن یہ پالیسی کبھی بھی ملت ایران کے ارادے پر اثر انداز نہیں ہوسکی ہے۔
........
/169